خونی چاندوں کی نمود، صہیونیوں کا پانچ صدیوں سے انتظار ************************ سالِ رواں کے آغاز میں جب ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی کہ 15 اپریل سے آسمان پرسرخ چاند گرہن کا آغاز ہونے والا ہے تو ساتھ ہی کار پوریٹ عالمی میڈیا میں نجوم کے ماہرین کے بیانات بھی آنے لگے۔ ---------- ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کا گرہن اس وقت وقوع پذیر ہوتا ہے جب زمیں، سورج اور مریخ ایک ہی قطار میں آ جاتے ہیں۔ اس ترتیب کے نتیجے میں چاند کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ اس طرح کی خونی رنگت والے چاند کے نظارے کو دنیا کے خاتمے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے ظہور کی نشانی قرار دیتے ہیں لیکن ایسے گرہن کے بعد جب چاند سرخ ہو جاتا ہے تو اہل یہود اس کو دنیا کی بادشاہت حاصل ہونے کی سنہری نوید قرار دیتے ہیں۔ خونی چاند گرہن مکمل چاند گرہن کو کہا جاتا ہے۔ ------------ امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی سال 2014 اور 2015 میں ’’بلڈ مون‘‘ کے بارے میں تصدیق کی ہے کہ یہ چاند وقفے وقفے سے چار مرتبہ نمودار ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میںیہودی بادشاہت کی بحث کو بہت ہی غیر محسوس طریقے سے چھیڑ دیا گیا، جس میں اب بہ تدریج گرمی لائی جا رہی ہے۔ رواں سال 15 اپریل کو پہلی بار اور اب 8 اکتوبر کو دوسری بار خونی چاند کا یہ نظارہ آسمان پر دیکھا جا سکے گا۔ اپریل میں یہ منفرد نظارہ ایک ہفتہ تک دیکھا گیا۔ یہ مننظر اُس وقت تک قائم رہا جب تک مریخ اور زمین کے درمیان فاصلہ نو کروڑ 20 لاکھ میل نہ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران ایسے خونی چاند گرہن تین بار وقوع پذیر ہو چکے ہیں۔ ------------ یہودیوں کی مقدس کتاب تالمود میں لکھا ہے کہ جب ایسا چاند گرہن لگتا ہے تو وہ بنی اسرائیل کے لئے بُرا شگون ہوتا ہے، دنیا پر تلوار کا سایہ پڑ جاتا ہے مگر ’’یہ ہماری فتح کی نشانی بھی ہے‘‘۔ یہودی بہ ظاہرعلم نجوم پر یقین نہیں رکھتے لیکن دو ہزار سال سے وہ سرخ چاند گرہن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ وہ سورج اور چاند گرہنوں کے دوران کرۂ ارض کی تبدیلیوں کا مشاہدہ و مطالعہ اپنی مقدس کتابوں کی روشنی میں ضرور کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک سیل قائم کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماضی میں جب بھی خونی چاند گرہن ایک ترتیب سے ظاہر ہوئے تو بنی اسرائیل پر ہمیشہ آفت آئی مگر ان کے عقیدے کے مطابق اس آفت میں اُن کی یقینی فتح بھی پوشیدہ رہی ہے، تاریخ میں ایسا متعد بار ہوچکا ہے۔ ------------ چاند کا یہ خونی نظارہ ہمیشہ سے یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے دوران ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اس سے قبل یہ چاند گرہن دو یہودی مذہبی تہواروں کے دوران مسلسل رونما ہوئے، 2014 میں دو بار اور 2015 میں بار دگر دو بار ان ہی دنوں میں رونما ہونے والے ہیں۔ گزشتہ پانچ صدیوں میں تین مرتبہ ایسا ہوا کہ جب کسی ایک سال میں دو خونی چاند گرہن لگے تو اس سے اگلے برس بھی دو ایسے ہی خونی چاند چڑھے۔ ---------- پہلی مرتبہ 93-1492 میں جب اسپین کو ملکہ ازابیلا اور فرڈیننڈ نے فتح کیا تو یہودیوں اور مسلمانوں پر افتاد پڑی اور انہیں جبراً عیسائی بنایا گیا، جو نہیں ہوئے انہیں بہت بڑے پیمانے پر تہِ تیغ کیا گیا اور غلام بنایا گیا۔ یہودیوں کو خاص طور پر ہفتے کے دن کاروبار کرنے اور سُؤر کھانے پر مجبور کیاگیا۔ دوسری بار چار خونی چاند گرہنوں کی سیریز، 50 -1949 میں شروع ہوئی تو اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی اور ڈیوڈ بن گوریاں کی حکومت بنی مگر عرب ممالک نے مل کر اسرائیل پرحملہ کیا۔ ----------- تیسری مرتبہ 68 -1967 میں چار سرخ چاند چڑھے تو عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں اسرائیل کی مدد امریکا نے کی اور یوں دو ہزار سال بعد بیت المقدس (یروشلم) پر یہودیوں کا قبضہ ہو گیا۔ گزشتہ کئی سال سے چار خونی چاند کی سیریزکا انتظار والے اب پھر پراُمید ہیں کہ دنیا پر ان کی باد شاہت قائم ہونے والی ہے۔ یوں سرخ چاندوں کے حوالے سے یہودیوں کا عقیدہ خاصا پیچیدہ ہے، ان چاند گرہنوں کے برسوں میں جہاں انہیں المیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں وہ اسے اپنے مالی استحکام اور اقتدار کے لیے باعثِ برکت بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ ان محاوروں کے عین مصداق ہے جن میں ہر غم کے بعد خوشی کی نوید دی جاتی ہے۔ ------------ اکیسویں صدی کا پہلا خونی چاند گرہن اپریل 2014 میں لگ چکا ہے۔ اس دوران اُن کا سات روزہ مشہور تہوار’’ یدش‘‘ جاری تھا۔ اس تہوار پر یہودی اپنی مخصوص روٹی پکاتے ہیں اور اپنے معبد (Cinagog) کے سامنے قربانی بھی دیتے ہیں۔ اب دوسرا خونی چاند 8 اکتوبر 2014 کو چڑھے گا ۔ اس دوران یہودیوں کا مشہور مذہبی دن اسکوٹ آ رہا ہے، جس کے آخر میں یوم کپور آنے والا ہے۔ اس تہوار کو یہودی مصر سے صحرائے سینا میں آمد اور وہاں اپنی چالیس سالہ ’در بہ دری‘ کی یاد کے طور پر مناتے ہیں۔ --------------- نئے سال میں تیسرا خونی چاند 4 ۔اپریل 2015 کو طلوع ہو گا اور یہ ’’ یدش‘‘ کے دنوں میں آرہا ہے۔ اس کے بعد چوتھا خونی چاند 28 ستمبر 2015 کو نمودار ہو گا اور یہ اسکوٹ کے دنوں میں آئے گا۔ اس پس منظر میں عالمی منظر نامہ کیا ہو گا ؟ اس پر جہا ں دیگر اقوام سوچ رہی ہیں تو وہیں یہودی بھی یہ تصور کیے بیٹھے ہیں کہ اس دوران اسرائیل کے ساتھ کسی جنگ کا آغاز ہو گا اور اس کے آخر میں فتح اسرائیل کی ہوگی۔ اس وقت جہاں اسرائیل بھر کے معبدوں میں دعاؤں اور دیوار گریہ پر روایتی گریے کا سلسلہ جاری ہے، وہیں دوسری جانب ان کے زیر سایہ کام کرنے والا عالمی میڈیا اس سارے عمل کو Tragedy and then Triumph کے نام سے یاد کر رہا ہے یعنی پہلے اندوہ پھر کام یابی۔ --------------------- پہلے دبے دبے لفظوں میں جب میڈیا نے اس یہودی فلسفے کے تحت بات شروع کی کہ اب امریکا اس قابل نہیں رہا کہ دنیا میں امن قائم رکھ سکے لہٰذا اسرائیل کو اب خود آگے بڑھ کر دنیا سے دہشت گردی ختم کرنا ہوگی تو اس پر امریکا، اسرائیل سے وقتی طور پر ناراض بھی ہوا تھا مگر اب یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوتی کہ اسرائیل نے اکتوبر 2o14 سے بہت ہی پہلے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر جو وحشیانہ حملے شروع کیے ، وہ کس لیے اور کیوں تھے؟ ۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کارروائی مسلمانوں کی بچی کھچی حمیت کو آزمانے کا ٹیسٹ کیس تھا۔ اس ٹیسٹ کیس میں اُن کو بہارِ عرب کے منظر نامے سے جو کام یابی ملی تھی، وہ اُسے بھی رواں سال کے پہلے خونی چاند سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ------------- پاکستان اور چارخونی چاند ------------------- آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد سے اہلِ یہود کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں، اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ بہار عرب سے داعش تک کی صورت حال کے بعد اُن کا اصل ہدف پاکستان کے وہ ایٹمی اثاثے ہیں، جن کا ذکر معروف کتاب ’’اوباما وار‘‘ میں ہوچکا ہے کہ کس طرح سال 2014-15 کے دوران پاکستان کو ان ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنا ہے۔ اب اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں ان آنے والے دنوں کے بارے میں جو عجیب وغریب پیش گوئیاں پیش کی جا رہی ہیں، اُن کے پیچھے کارفرما عوامل کو فوری طور پر سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔
Monday, November 3, 2014
خونی چاندوں کی نمود، صہیونیوں کا پانچ صدیوں سے انتظار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment