
Wednesday, September 24, 2014
Tuesday, September 23, 2014
Breaking News: Election Commission of Pakistan vindicates PTI's stance - Elections did not meet constitutional obligations
Sunday, September 21, 2014
Saturday, September 20, 2014
Let's promise that we will not let our national and personal ego be trampled by these unethical, immoral, abusers of power.
Friday, September 19, 2014
Thursday, September 18, 2014
ممتا کلکرنی نے اسلام قبول کرلیا،کینیا میں رہائش اختیار کرلی

نیروبی: بالی ووڈ اداکارہ ممتا کلکرنی کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ان دنوں اسلام قبول کرنے کے بعد کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں اپنے شوہر وکی گوسوامی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور قبول اسلام کے بعد اداکارہ نے بھارتی فلموں میں کام کرنے اور رقص کی پیش کش بھی مسترد کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وکی گوسوامی کو 1997ء میں متحدہ عرب امارات میں منشیات کے کیس میں دبئی میں 25 برس کی قید ہوئی لیکن انھیں دوران قید اسلام قبول کرنے پر عرب امارات حکومت نے اس کی سزا میں کمی کر دی اور 15 نومبر 2012ء میں رہا کر دیا گیا۔ 52 سالہ وکی گوسوامی کے جیل کے دوران ان کی دوست ممتا کلکرنی کینیا میں ان کا ہوٹل کا کاروبار سنبھالتی تھیں لیکن وکی گوسوانی سے شادی کے بعد ممتا کلکرنی بھی 15 مئی 2013 ء کو مسلمان ہو گئی تھیں۔ یاد رہے 1993ء میں اسٹارڈسٹ میگزین کے سرورق پر ممتا کلکرنی کی برہنہ تصویر چھپنے پر اداکارہ متنازع ہوگئی تھی۔ ممتا نے بالی ووڈ کی بہت کامیاب فلموں میں کام کیا جن میں ’’عاشق آوارہ ‘‘، ’’وقت ہمارا ہے‘‘ ، ’’کرانتی ویر‘‘ ، ’’ کرن ارجن‘‘ ، ’’سب سے بڑا کھلاڑی‘‘ ، ’’بازی ‘‘ اور ’’چائنہ گیٹ ‘‘ شامل ہیں۔ ممتا کلکرنی نے 11 سال تک بالی ووڈ میں راج کرنے کے بعد شوبز دنیا چھوڑ دی تھی۔
Wednesday, September 17, 2014
Tuesday, September 16, 2014
کیا پاکستان واقعی بدل رہا ہے؟
کل رات میں جب سویا تو میرے اندازے کے مطابق وہ بالکل ویسا ہی پاکستان تھا جو میں اپنی پیدائش کے بعد سے دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔ جہاں ظلم بھی تھا، زیادتیاں بھی تھی، احتجاج بھی تھا، حکومتی نالائقی بھی اور وہ سب کچھ تھا جس کا تجربہ روزانہ کی بنیاد پر آپکو بھی ہوتا ہے اور مجھے بھی۔ مگر جب صبح بیدار ہوکر آفس پہنچا اور حسب معمول فیس بک کا دیدار کیا تو پاکستان کچھ بدلا بدلا پایا۔کیونکہ جس پاکستان کو میں جانتا ہوں وہاں لوگ برسوں سے ظلم کو برداشت کرنا اپنے لیے عقیدت سمجھتے ہیں، جہاں لوگ خود کو کمتر اور اپنے سے اوپر ایک چھوٹے سے گروہ کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور پھر اُن کی ہر بات ماننے کو اپنی زندگی کی طوالت کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں ، مگر اب مجھے یہ پاکستان کچھ بدلا بدلا سا لگا۔ اگرچہ یہاں ظلم کے اندھیرے اب بھی برقرار ہیں، یہاں زیادتیاں اب بھی ہورہی ہونگی، احتجاج بھی ہورہا ہے مگر کچھ ایسا ضرور ہوا جو تادور چھائے اندھیروں کو چیرنے والی روشنی کا دیدار کروارہا ہے۔ بات کچھ طویل ہوگئی مگر واقع بھی کچھ ایسا ہی ہے۔صبح فیس بک جیسے ہی کھولا اتفاق سے میرے سامنے 2 ویڈیوز آئیں جو ابتدا میں مجھے ایک مذاق سا لگیں مگر اُس کی حقیقت تو اُس وقت سامنے آئی جب میں نے اپنے 10 منٹ اُن کو دیکھنے کے لیے صرف کیے۔کیا شاندار منظر تھا، دل ہی دل میں ایک خوشی محسوس ہورہی تھی، مجھے لگا کہ میں خود کو تھوڑا تھوڑا آزاد محسوس کررہا ہوں شاید میرے جذبات آپکو سمجھ نہ آسکیں کیونکہ اِن جذبات کا تعلق لوگوں کی جانب سے دکھائی جانے والی بغاوت سے ہے۔ عام طور پر بغاوت کا لفظ منفی معنوں میں لیا جاتا ہے مگر نہیں نہیں ۔۔۔ یہ وہ بغاوت نہیں ہے ، یہ تو ہوا کا وہ ابتدائی جھونکا ہے جس سے کچھ نہ کچھ تسکین ضرور مل رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ 15 ستمبر کو پی کے 370 کراچی سے اسلام آباد کی جانب جارہی تھی جس میں سابق وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک اور وفاق میں اقلیتوں کے وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹر رمیش کمار نے بھی سوار ہونا تھا۔ مگر لوگوں کا کیا اجب جذبہ تھا، کیا ولولہ تھا، کیا فیصلہ تھا کہ کچھ کچھ ہمت مجھے بھی آئی کہ ہاں اب کچھ ہوجائے ظلم برداشت نہیں کرینگے۔کیونکہ فلائیٹ کو جس وقت پر پروان بھرنی تھی اُس وقت نہ بھر سکی اور مسافروں کو اضافی دو گھنٹے تک جہاز انتظار کرنا پڑا اور وجہ یہ بتائی گئی کہ رحمان ملک اور رمیشن کمار کا انتظار ہورہا ہے ۔ اگر چہ یہ کچھ ایسا تو ہرگزنہیں ہوا تھا جس پر وہاں موجود 350 مسافروں کو حیرت ہونی چاہیے۔کیونکہ ہمارے یہاں تو اِس قسم کے واقعات کا رونما ہونا ایک عام سی بات ہے جس کو سینکڑوں مسافر خاموشی سے برداشت کرلیتے ہیں کہ چلو جس کا انتظار کیا جارہا ہے وہ یقیناً کوئی بڑی شخصیت ہی ہوگی۔ مگر اِس بار ایسا نہیں ہوا۔ لوگوں میں ایک الگ جوش بھی تھا اور جذبہ بھی۔جویہ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ آخر 2 فرد کس طرح 350 مسافروں کے 2 گھنٹے محض اِس لیے ضائع کرسکتے ہیں کہ وہ سیاستدان ہیں اور سیاستدان بھی روایتی۔ لوگوں نے اگرچہ 2 گھنٹے انتظار کیا مگر اُس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ تھوڑی بہت بھڑاس نکال کر 2اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ جائیں تاکہ جہاز اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوسکے۔ بلکہ مقصد تو کچھ اور ہی تھا اور یہ یقیناً پاکستان کے لیے ایک نیا منظر تھا۔ لوگوں نے پہلے آنے والے ڈاکٹر رمیش کی آمد پر نہ صرف شدید تنقید کی بھی بلکہ جہاز میں اُن کے خلاف مختلف نعرے بھی لگائے مگر وہ اِنہیں نعروں کی گونج میں کسی نہ کسی طرح اپنی سیٹ پربیٹھنے میں کامیاب ہوگئے ، مگر لوگوں کا غصہ تھا جو ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور وہ ڈاکٹر رمیش کی سیٹ پر جاکر اُن کا نام پوچھتے رہے ، پہلے تو نام بتانے سے ہچکچارہے تھے مگر بار بار کے اصرار پر اُنہوں نے بتاہی دیا اور جب اُن سے پوچھا کہ آپ سیاستدان ہیں؟ تو ابتدا میں تو انکاری رہے مگر پھر منہ سے نکل ہی گیا کہ ہاں میں ’ایم این اے‘ ہوں ۔۔۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ وہ ہوا جو ایک حسین یادگار کی صورت اختیار کرگیا ۔۔۔۔ لوگوں نے نعروں سے جہاز میں ایک عجب سے ماحول بنادیا اور لوگوں نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی گنجائش نہیں کہ آپ اِس میں سفر کریں اِس لیے پہلی فرصت میں اپنے سامان سمیت یہاں سے نکل جائیں اور جناب جب خلق خدا کچھ کہتی ہے تو پھر سب کو سننی ہی پڑتی ہے۔
مودی کا جادو 3 ماہ میں ہی اتر گیا، ضمنی الیکشن میں بی جے پی کو شکست
نئی دہلی: بھارت کی 3لوک سبھا اور مختلف ریاستوں میں 33خالی اسمبلی کی نشستوں کے انتخابات میں بی جے پی کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش میں بی جے پی اور اسکی اتحادی جماعتیں 11میں سے صرف 3سیٹوں پر کامیابی حاصل کر سکیں جب کہ 8 سیٹیں ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کو ملیں۔ یہاں بی جے پی نے ووٹروں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کے لیے زبردست مہم چلا رکھی تھی۔ بی جے پی کو سب سے بڑا نفسیاتی دھچکا گجرات میں لگا جہاں اسے 9 اسمبلی سیٹوں میں سے صرف 6 پرکامیابی ملی، جب کہ 3 سیٹیں کانگریس کو ملیں، پہلے یہ سبھی سیٹیں بی جے پی کے قبضے میں تھیں۔ راجستھان میں بھی کانگریس نے اسمبلی کی 4 نشستوں میں سے 3 پر کامیابی حاصل کی اور بی جے پی کو محض ایک سیٹ ملی۔ اس سے پہلے یہ چاروں سیٹیں بی جے پی کے پاس تھیں۔ البتہ بی جے پی کو مغربی بنگال میں پہلی بار کامیابی ملی۔ 33اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی اور اسکی اتحادی جماعتوں کو 12، سماج وادی پارٹی کو 8اور کانگریس کو 7سیٹیں ملیں۔ باقی سیٹیں دوسری جماعتوں نے جیتیں۔ لوک سبھا کی جن 3سیٹوں کے ضمنی انتخاب ہوئے تھے ان میں بڑودا کی سیٹ پر بی جے پی کو کامیابی ملی۔ یہ سیٹ نریندر مودی نے خالی کی تھی، اگرچہ اس بار جیت کا فرق بہت گھٹ گیا ہے۔ باقی 2سیٹوں میں سے ایک پر سماج وادی پارٹی اور ایک پر تلنگانہ راشٹریہ سمیتی نے کامیابی حاصل کی۔ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی اس شکست کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی گھٹتی ہوئی مقبولیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے اتر پردیش، راجستھان اور گجرات میں ہندوئوں کے ووٹوں کو متحد کرنے کے لیے مسلمانوں کیخلاف ’لوجہاد‘ نام کی تحریک بھی چلا رکھی تھی۔ سب سے سے زیادہ توجہ اتر پردیش پر مرکوز کی گئی تھی۔
Monday, September 8, 2014
(میڈیا واچ ڈاگ) – عصمت فروشی جرم یا مجبوری؟
کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی بچہ پیدائشی مجرم نہیں ہوتا ،اور یہ بھی کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ اس بات کا اعلان ہے کہ قدرت ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوئی، یہ تو وہ حالات کار ہیں جو کسی انسان کو مجرم یا شریف بناتے ہیں، کسی کو مجرم بننے سے روکنے کے لئے ضروری ہے کہ ان حالات کا خاتمہ کیا جائے ۔آپ تمام برائیوں اور جرائم کے پیچھے چھپے محرک کو تلاش کریں تو پتہ چلے گا ’’بھوک‘‘ کی کوکھ سے ہی تمام برائیاں اور جرائم جنم لیتے ہیں۔ بھوک کی ہر قسم خطرناک ہوتی ہے،دنیا میں جتنی لعنتیں اور برائیاں ہمیں نظر آتی ہیں وہ بھوک کی کوکھ سے ہی جنم لیتی ہیں، گدا گری سے لیکر انسانی شرف کی تذلیل اور عصمت فروشی تک بھوک ہی لے کر جاتی ہے۔ مجبوریاں انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتی ہیں اس کا ادراک اور احساس معاشروں میں نظر نہیں آتا یہاں،مذہبی تقریبات کے لئے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے تو جیب فوراً ڈھیلی کر دی جاتی ہے جبکہ کسی غریب ،مجبور اور بیمار کی مدد کرتے وقت جیبیں خالی کرنا بہت مشکل لگتا ہے۔ یہ ہمارا مجموعی رویہ ہے اور پھر ہم معاشرے کے ایسے افراد جو کسی مجبوری کی بنا پر گناہوں میں شرف انسانی کو آلودہ کرتے ہیں ان کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔ قصور وار کون؟ ’’مجبوری‘‘ کی حالت میں گناہ کرنے والا یا وہ جس کی جیب کسی مجبور کے لئے ڈھیلی نہیں ہوتی یا معاشرہ جو ان حالات کے خاتمے کی طرف اپنی اجتماعی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتا ہے، غلط کار انسان نہیں وہ معاشی و معاشرتی حالات ہیں جو اسے غلطیوں کی طرف لے کر جاتے ہیں ۔ جب کوئی عورت عصمت فروشی کے جرم میں پکڑی جاتی ہے تو انسانیت کی تذلیل کا وہ منظر انتہائی شرمناک ہوتا ہے اور اس عورت کو اس وقت دنیا کی سب سے بری عورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ مگر کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ ہم میں سے اکثر اسی ذلیل اور راندہ درگاہ ہستیوں کے در پر ٹھوکریں کھانے جاتے ہیں، کیا ہمارے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ ہم بھی ذلیل اور اسی کی طرح گرئے ہوئے ہیں ۔ یا کیا کبھی کسی ان کی ضروریات کو بنا ’’غرض‘‘ پوری کرنے کی کوشش کی ؟۔ ابھی حال ہی میں ایک خبر نظر سے گزری جس کے مطابق ایک بھارتی اداکارہ کو ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے قابل اعتراض حالت میں گرفتار کر لیا گیا اس امر کی تفصیل کچھ یوں بیان ہوئی ہے کہ نیشنل ایوارڈ یافتہ بھارتی اداکارہ شویتا باسو پرساد کو حیدر آباد پولیس نے مبینہ طور پر عصمت فروشی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ شبانہ اعظمی کی بالی ووڈ فلم مکڑی میں چائلڈ سٹار کے طور پر کام کرنیوالی شویتا باسو کو اس فلم میں بہترین اداکاری پر نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جو بھارتی سینما میں آسکر ایوارڈ کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ شویتا نے نیشنل ایوارڈ یافتہ فلم اقبال سمیت متعدد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ تاہم شویتا بالی ووڈ فلموں کے بجائے ان دنوں تیلگو فلموں میں کام کر رہی تھی۔ مشہور بھارتی ڈرامہ سیریل کہانی گھر گھر کی میں اداکارہ ساکشی تنوار کی بیٹی کا کردار بھی نبھانے والی شویتا باسو نے عتراف کیا ہے کہ وہ پیسوں کی کمی پورا کرنے کے لئے ان برے لوگوں کے ہتھے چڑھی، اس پر گھریلو ذمہ داریاں ہیں اور بھی کئی اچھے کاموں کے لئے پیسے کی ضرورت ہے ، اور جب اس کے حصول میں اس کو مکمل طور پر ناکامی ہو گئی تو کچھ لوگوں نے اس کو برے کاموں کی ترغیب دی۔ ’’ میرے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔ میرے خیال میں فلمی دنیا کا انتخاب کر کے میں نے غلطی کی تھی‘‘۔ شویتا باسو کو خصوصی ریسکیو ہوم میں بھیج دیا گیا ہے ، جہاں پر مقدمے کی سماعت کے دوران وہ زیر نگرانی رہے گی۔ اسی سے ملتی جلتی ایک اور خبر کے مطابق بھارتی ماڈل اور اداکارہ پونم پانڈے کو عوامی مقامات پر غیر اخلاقی لباس پہننے پر گرفتار کرنے کے بعد تنبیہ کر کے رہا کر دیا گیا تھا۔ بھارتی ادکارہ کی گرفتاری پر فلمی دنیا کے حلقوں کے ساتھ سماجی حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں فحاشی عریانی کی کوئی خاص تمیز نہیں رہی اور نہ ہی کوئی حدود و قیود ہیں اسے ملک میں ایک ادکارہ کا گرفتار ہونا سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ اس نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ اس نے یہ کام اپنی مجبوری اور ضرورت کے تحت کیا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی عورت خوشی سے ایسا کوئی کام نہیں کرتی نہ کریں گی جس میں اس کا شرف مجروح ہو اور انتہائی ’’ناپسند‘‘ مرد کے ساتھ وقت گزاریں گی۔ مردوں کے معاشروں میں خواتین کا استحصال اس قدر ہو رہا کہ کہ ان کے آبرومندانہ زندگی گزارنے کے راستے بند ہوتے جارہے ہیں ۔ مردوں کے معاشروں میں عورت کو کچھ بھی بنا کر پیش کر دیا جائے یا سلوک کیا جائے اس کی شنوائی میں حائل بھی مرد ہی ہیں ان کو بری راہوں کی طرف دھکیلنے والے بھی مرد ہی ہیں جب تک عورت کو اس کا جائز مقام’’انسان ہونا‘‘ تسلیم کر کے معاشروں میں عزت و احترام اور مساوی درجہ نہیں دیا جاتا اس وقت تک عورت کی حیثت ثانوی رہے گی اور اس کی تقدیر مردوں کے ہاتھ میں ہی رہے گی ،اور وہ جب تک چاہیں جس طرح چاہیں اسے اپنی مرضی استعمال کریں ۔ عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مقام کو پہچانے اور اپنے حق کے لئے جدو جہد کو تیز کریں تا کہ ان کا استحصال کوئی نہ کر سکے۔ نوٹ: روزنامہ ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
Sunday, September 7, 2014
سادہ و زود ہضم غذا کھائیں اور عمر بڑھائیں
ہرانسان میں ہمیشہ تندرست ،توانا،صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کی خواہش موجود ہوتی ہے ۔وہ نہیں چاہتا کہ زندگی کے کسی بھی حصے میں اسے بیماریوں کاسامنا کرنا پڑے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں اور یہی کمزوریاں اسے مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ تمام لوگ اس بات کا صحیح شعورو ادراک نہیں رکھتے کہ کون سی چیز یا شے ان کے لئے فائدہ مند ہے اور کون سی غذائیں انہیں نقصان پہنچاسکتی ہیں۔ لہٰذا وہ ایسی اشیاء کااس وقت تک بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں جب تک کہ اس کے مضراثرات ان کی صحت پر اثر انداز نہیں ہو جاتے۔ حکیم بقراط کا قول ہے کہ ’’بیماری کوئی بجلی نہیں جو کسی پرآسمان سے اچانک ٹوٹ پڑتی ہو بلکہ یہ آپ کی ان چھوٹی چھوٹی زیادتیوں اور بے اعتدالیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے رہتے ہیں‘‘ کیا یہ اچھی بات نہیں کہ بیماری کی نوبت ہی نہ آئے اس کے لئے آپ کو اپنی ان عادات پر قابو پانا ہوگا ۔ جن کے باعث آپ کو مختلف تکالیف اور امراض کا سامنا کرناپڑتا ہے لہٰذا اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسی خوراک سے حتی الامکان گریز کیا جائے جو آپ کے جسم کو راس نہیں آتی یا جنہیں کھانے کے بعد آپ کا معدہ مشکل کاشکار ہو جاتا ہے۔ خوراک کے ماہرین نے اس ضمن میں تحقیق کرنے کے بعد چند ایسے اصول متعارف کرائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ تاحیات صحت مند رہ سکتے ہیں بلکہ اس سے طبی عمر میں بھی اضافہ ہوگا۔ آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ کھانا سادہ اور زود ہضم ہو۔بہت زیادہ مرغن غذا نہ صرف جسم میں فاضل چربی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں بلکہ اس سے دیگر امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ چونکہ یہ مصالحوں سے بھری ہوتی ہیں اس لئے نظام انہضام کو متاثر کرتی ہیں اور طبیعت پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ بھوک خواہ کتنی ہی تیز اور شدید کیوں نہ ہو، کھانا ہمیشہ چبا چبا کر کھاناچاہئے تاکہ ہر لقمے میں لعاب دہن بقدر ضرورت شامل ہو سکے۔ آہستہ کھانے سے کھانانہ صرف طبیعت اور جسم کو فرحت بخشتا ہے بلکہ آسانی کے ساتھ جزوبدن بھی بن جاتا ہے۔ آپ اگر سب لوگوں کے بعد دسترخوان سے اٹھتے ہیں تو یہ آپ کے لئے نہایت ہی اچھا ہے۔ اسی طرح کھانے کے اختتام پر ذرا سی بھوک رکھنابھی ضروری ہے اور کھانے کے دوران دو تین گھونٹ سے زیادہ پانی نہیں پیناچاہئے۔ پھلوں میں امرود، تربوز، کیلا، کھجور، گرم میوہ جات ہمیشہ تھوڑی مقدارمیں کھائیں۔ بیشک یہ چیزیں اپنے اندرافادیت و غذائیت کے خزانے رکھتی ہیں لیکن ان کا ایک ہی وقت میں زیادہ استعمال اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح مچھلی،گوشت کے کباب ، بازاری اشیاء ، میوؤں کا بنا ہوا حلوہ، زیادہ گھی والے پکوان، مٹھائیاں اور گھی میں تلی ہوئی ہر قسم کی غذائیں ہمیشہ کم مقدارمیں کھائیں۔ ویسے بھی ان اشیاء کا کثرت سے استعمال ان کے مخصوص ذائقے کی انفرادیت اور افادیت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈہ، مچھلی، گوشت ، سالن کی صورت میں بھی کم کھائیں۔ان چیزوں کا کثرت سے استعمال جسم میں غیر معمولی حرارت اور خون میں حدت پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ دل،جگر ،مثانے کی سوزش وحدت تنفس میں عدم توازن اور طبیعت میں اشتعال و ہیجان کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اس سے عیش پسندی کا رجحان بھی ابھرتا ہے۔ بعض لوگ بازار کے کھانوں کی عادت بنالیتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے بھی درست نہیں جبکہ بازاری کھانے خالصتاً کاروباری نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر تیار کئے گئے ہوتے ہیں جس میں کوالٹی اور معیار کو سامنے نہیں رکھاجاتا اور دوسرا یہ کہ اس میں مصالحوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لئے مضر ہوتے ہیں، اس لیے آپ حتی الامکان بازاری کھانوں سے پرہیز کریں اور مجبوری کی صور ت میں محض دال یا سبزی کاانتخاب کریں۔ آپ کھانا گھرپر کھا رہے ہوں یا ہوٹل میں، ہمیشہ صاف برتن میں کھائیں۔ بہتر ہوگا کہ کھانا کھانے کے بعد برتنوں کو گرم پانی سے دھویاجائے۔ ہوٹلوںمیں برتنوں کو گندے پانی میں ہی دھو دیا جاتا ہے۔ جس سے برتنوں میں جراثیم موجود رہتے ہیں جو ہیضہ، دستوں،الٹیوں اور دیگر معدے کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جسمانی توانائی قائم رکھنے کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا ضروری ہے، یہ خیال سرے سے غلط ہے کیونکہ جب تک آپ کو بھوک نہیں لگتی آپ خواہ کھانے کا وقت ہوگیا ہو، مت کھائیں۔ایسی صورت میں کھانا کبھی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتا۔ بھوک نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے معدے میں موجود پہلی غذا ہضم نہیں ہوئی۔ اگر آپ اور کھائیں گے تو معدے پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا نتیجے میں آپ کو کٹھے ڈکار آئیں گے۔ معدے میں تیزابیت بڑھ جائے گی، ہاضمے کی خرابی کی شکایت لاحق ہو جائے گی ،سینہ جلنے لگے گا، غیر منطقی اور عجیب و غریب خواب آنے لگیں گے لہٰذا کھانا ہمیشہ اس وقت کھائیں جب آپ کو واقعی بھوک محسوس ہو۔ غذا کے انتخاب میں ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کریںایسی غذائیں جو آپ کو متعدد بار نقصان پہنچا چکی ہوں ان سے گریز کریں یا ان کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیے، خصوصاً ایسے افراد جو سارا دن کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ صبح سویرے ڈیڑھ دو میل تک چہل قدمی کریں یا دن میں کسی بھی وقت ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔
Wednesday, September 3, 2014
سونے کی فی تولہ قیمت 300 روپے کی کمی کے بعد 48550 ہوگئی
کراچی: بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 ڈالر کی کمی سے 1271 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ قیمت میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منگل کو تولہ اور دس گرام قیمتوں میں بالترتیب 300 اور 257 روپے کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں تولہ قیمت 48550 اور دس گرام 41614 روپے ہوگئی تاہم چاندی کی تولہ قیمت 760 اور دس گرام 654.42 روپے پر مستحکم رہی۔کراچی: بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 ڈالر کی کمی سے 1271 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ قیمت میں کمی کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی منگل کو تولہ اور دس گرام قیمتوں میں بالترتیب 300 اور 257 روپے کی کمی ہوئی جس کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں تولہ قیمت 48550 اور دس گرام 41614 روپے ہوگئی تاہم چاندی کی تولہ قیمت 760 اور دس گرام 654.42 روپے پر مستحکم رہی۔
Subscribe to:
Comments (Atom)





