Wednesday, August 27, 2014

بھارت میں خاتون نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے حملہ کرنے والے چیتے کو مارڈالا

کہتے ہیں جب موت آنکھوں کے سامنے آجائے تو کمزور انسان میں بھی زندگی بچانے کےلیے بجلی کی سی قوت بھر جاتی ہے اور کبھی کبھی وہ ناممکن کو بھی ممکن کر دکھاتا ہے اور ایسا ہی کچھ ہوا بھارت میں جہاں خاتون نے ایک چیتے سے دلیرانہ مقابلہ کرتے ہوئے اسے مار کراپنی زندگی کی بازی جیت لی۔ بھارتی ریاست اترکھنڈ کے علاقے ردرا پریاگ کی رہنے والی کاملا دیوی پانی کی تلاش میں نکلی اور جب اسے پانی مل گیا تو عین اس وقت ایک چیتے نے اس پر حملہ کردیا، کاملا دیوی کے پاس چیتے سے لڑنے کے لیے صرف ایک بیلچہ اور درانتی تھی اوراسے لگا کہ اب وہ زندہ نہیں بچے گی۔ کاملا کا کہنا تھا کہ وہ آدھا گھنٹے تک چیتے سے لڑتی رہی لیکن ہمت نہیں ہاری اور اس دوران بیلچے سے چیتے کے دو دانت توڑڈالے اور درانتی کے کئی وار بھی کئے جس میں سے ایک وار اس کی گردن پر لگا جس کے بعد وہ گر گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ چیتے سے لڑائی میں کاملا کو کافی زخم آئے اور اس کے بائیں اور دائیں ہاتھ پر 2فریکچرز بھی ہوئے جب کہ اس کے سر اور ٹانگوں پر بھی گہرے زخم آئے اس کے علاوہ پورے جسم پر چیتے کے کاٹنے کے نشانات بھی موجود ہیں تاہم کاملا اب روبہ صحت ہیں۔ کاملا کو اسپتال لانے والے شخص پنکج بست کا کہنا تھا کہ کاملا انتہائی بہادر خاتون ہے اس نے بہت دیر تک چیتے سے مقابلہ کیا۔

Saturday, August 16, 2014

READ CAREFULLY

قرآن میں اللہ نے مچھر کی مثال دی کہ حق ماننے والوں کے لیےبظاہر اس معمولی مثال میں بھی نشانیاں ہیں !!! اس معمولی مچھر میں ڈھونڈنے والوں کے لیے کتنی نشانیاں ہو سکتی ہیں ذرا اندازہ لگاتے ہیں !!! ہم صرف مچھر کے خون چوسنے کے عمل پر غور کرتے ہیں جو اس قدر پیچیدہ ہے اور اس میں بیک وقت اتنے عناصر کارفرما ہوتے ہیں کہ ناقابل یقین لگتا ہے !!! لہذا اس سارے عمل کے بھی ہم صرف ایک حصے پر غور کرتے ہیں !!! مچھر خون چوسنے کے لیے کھال کاٹتا ہے ۔ وہاں سے اتنی معمولی مقدار میں خون رستا ہے کہ بظاہر نظر نہیں آتا ۔ کٹے ہوئے اس حصے میں مچھر اپنا ڈنک اندر داخل کر کے خون چوسنا شروع کر دیا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ وریدوں اور رگوں کو ذرا سا بھی نقصان پہنچ جائے تو انسانی جسم ایک ایسا مادہ خارج کرنے لگتا ہے جو وہاں سے رستے خون کو فوراً لوتھڑے کی شکل میں جما دیتا ہے ۔ مطلب خون جمنے سے مچھر خون پینے کے قابل نہیں رہتا تو وہ اپنا یہ مسئلہ کیسے حل کرتا ہے ؟؟ کھال میں کٹ لگانے کے بعد خون چوسنے سے قبل مچھر وہاں ایک مخصوس مائع اپنے جسم سے داخل کرتا ہے جو اس مادے کو بے اثر کر دیتا ہے جو خون جماتا ہے !!! مچھر کے چھوڑے ہوئے اسی مادے کی وجہ سے انسان اس حصے میں خارش یا سوجن محسوس کرتا ہے ۔ یہ غیرمعمولی عمل کچھ غیر معمولی سوالات کو جنم دیتا ہے جیسے ۔۔۔۔ 1۔ خون کو لوتھڑے میں تبدیل کر دینے والے اس مادے کا علم مچھر کو کیسے ہوا؟؟ 2۔ اس کیمیائی مادے کو بے اثر کرنے کے لیے اسکی ساخت کا علم ہونا ضروری ہے یہ علم مچھر نے کیسے حاصل کیا ؟؟ 3۔ اگر یہ علم اس نے کسی طرح حاصل کر بھی لیا تو اسکو بے اثر کرنے والی رطوبت اسنے اپنے جسم میں کیسے پیدا کی اور اسکو اپنے پیٹ سے جبڑوں تک پہنچانے کا " میکنزم " کیسے نصب کیا ؟؟ یقیناً مچھر میں کوئی دانائی نہیں نہ ہی اس کو کیمیا کا علم حاصل ہے اور نہ ہی اسکے پاس کوئی تجربہ گاہ ہے !!! اسکی تو کل لمبائی ہی چند ملی میٹر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔!!! یہ اللہ ہی ہے ۔ عظیم خالق جس نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کی اور سب جانداروں کی اور انکو مطلوبہ صفات عطا کیں ۔۔۔۔ غور کرنے والوں کے لیے اس مٰیں نشانیاں ہیں !!! تحریر شاہد خان ( ہارون یحی کی تحقیق)

Baby Monkey....Sooooo Cute!


Cute Baby Glasses


My Diamonds